ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / روہنگیائی مسلمانوں کوہندوستان میں رہنے کی اجازت دی جائے:جمیعۃ علمائے ہند

روہنگیائی مسلمانوں کوہندوستان میں رہنے کی اجازت دی جائے:جمیعۃ علمائے ہند

Tue, 03 Oct 2017 23:27:12    S.O. News Service

حکومت ہندنے جواب داخل کرنے کے لیئے وقت طلب کیا، معاملے کی سماعت 13؍ اکتوبر تک ملتوی
نئی دہلی ،3اکتوبر( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )انسانیت کے واسطے روہنگیا پناہ گزینوں کو ہندوستان میں رہنے کی اجازت دی جائے نیز مرکزی سرکار کو مسلمانوں کو بھی اسی گرم جوشی سے اپنانا چاہئے جس طرح سے اس نے ہندؤوں اور دیگر قوموں کے پناہ گزینوں کو ہندوستان میں پناہ دی ہے۔اس طرح کی درخواست آج یہاں سپریم کورٹ آف انڈیا میں روہنگیائی مسلمانوں کو پناہ دیئے جانے کے تعلق سے داخل کردہ سول رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران جمعیۃ علماء ہند نے عدالت سے کی۔جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی بذات خود اس رٹ پٹیشن میں مداخلت کار بنے ہیں جس میں ہندوستان میں پناہ گزین دو روہنگیائی مسلمانوں نے سینئر ایڈوکیٹ وحقوق انسانی کے لیئے آواز بلند کرنے کے لیئے مشہور پرشانت بھوشن کے توسط سے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کرکے انہیں اور دیگرپناہ گزینوں کو ہندوستان سے نکالنے کے کے فیصلہ پر نظر ثانی اور سپریم کورٹ سے اس معاملے میں دخل دینے کی گذارش کی تھی ۔محمد سلیم الدین اور محمد شاکر جو فی الحال دہلی کے مضافات میں پناہ گز ہیں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہیکہ انہیں ہندوستان میں رہنے کی اجازت دی جائے نیز انہیں ان سبھی سہولیات سے مستفید ہونے کی اجازت دی جائے جو ایک عام ہندوستانی شہری کو حاصل ہے ۔آج چیف جسٹس دیپک مشراء کی سربراہی والی سہ رکنی بینچ جس میں جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ شامل ہیں کے روبرو سینئر وکیل ایف ایس نریمن نے بحث کی اور عدالت کو بین الاقوامی اجلاسوں میں پناہ گزینوں کے تعلق سے منظور کی گئی قراردادوں کا حوالہ دیکر بتایا کہ ہندوستان نے ہمیشہ مظلوموں کی مدد کرنے کا یقین دلایا ہے لہذا رہونگیائی پناہ گزینوں کو کی بھی مدد کی جائے اور انہیں قیام امن تک ہندوستان میں رہنے کی اجازت دی جائے ۔جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ سلمان خورشید ایڈوکیٹ آن ریکارڈ فضیل ایوبی کے ہمراہ آج عدالت میں حاضر تھے لیکن عدالت نے مداخلت کار کی درخواست پر فیصلہ حکومت ہند کے جواب موصول ہونے کے بعد کیئے جانے کا حکم نامہ جاری کیا ۔مرکزی حکومت کے نمائندے نے اس تعلق سے اپنا جواب اور دیگر دستاویزات داخل کرنے کے لیئے عدالت سے وقت طلب کیا جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی ۱۳؍ اکتوبر تک ملتوی کردی اس سے قبل کی سماعت پربھی مرکزی حکومت نے جواب داخل نہیں کیا تھا جس کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ عدالت میں مرکز اپنے موقف کا اظہار کریگی لیکن ایسا ہونہیں سکا۔


Share: